ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مظفرنگر میں کسانوں کی تاریخ ساز مہاپنچایت؛ راکیش ٹکیت نے بلند کئے اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے ( راکیش ٹکیت کے خطاب کی مکمل وڈیو)

مظفرنگر میں کسانوں کی تاریخ ساز مہاپنچایت؛ راکیش ٹکیت نے بلند کئے اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے ( راکیش ٹکیت کے خطاب کی مکمل وڈیو)

Sun, 05 Sep 2021 18:22:22    S.O. News Service

مظفرنگر،5؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف سمیوکت کسان مورچہ کی اپیل پر مظفرنگر کے جی آئی سی میدان پر کسانوں کی عظیم الشان  مہاپنچایت میں ملک بھر سے لاکھوں کسانوں نے شرکت کی۔ اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے تھے کہ راستوں پر بھی پاوں رکھنے کے لئے جگہ نہیں بچی تھی۔

مہاپنچایت میں  بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت  حکومت کے خلاف جم کر گرجتے نظر آئے ۔ انہوں نے 10 فٹ اونچے پلیٹ فارم سے کہا کہ اس حکومت نے پورا ملک بیچ دیا ہے۔ اب لڑائی 'مشن یوپی' اور 'مشن اتراکھنڈ' کی نہیں ہے ، بلکہ ملک کو بچانے کی ہے۔ 

راکیش ٹکیت نے مزید کہا کہ ہم وہ نہیں ہیں جو  جھولا اُٹھا کر چل دیں  گے۔ میں کسان ہوں اور کسان  ہی رہوں گا۔ میں آخری دم   تک کسانوں کے ساتھ رہوں گا۔ ہم کسانوں کے حقوق کی لڑائی کے لیے ہمیشہ کسانوں کے ساتھ رہے ہیں ، اور مرتے دم   تک کسانوں کی لڑائی لڑیں گے۔ پتہ چلا ہے کہ   اس دوران انٹرنیٹ سروس تقریبا  2 گھنٹے تک  بند کردی گئی تھی۔

کسان رہنما راکیش ٹکیت نے اسٹیج سے اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ  یہ لوگ تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں ، ہمیں انہیں روکنا   ہوگا۔ مزید بتایا کہ  اس سے پہلے ملک میں اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ استعمال ہوتے تھے  اب  آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ یوپی کی زمین فسادیوں کو نہیں دی جائے گی۔ ٹکیت  نے کہا کہ یہ لڑائی تین کالے قوانین سے شروع ہوئی۔ 28 جنوری کو  اندولن کا قتل ہوتا۔ ہزاروں کی فورس  تھی ، ہم سینکڑوں  میں تھے ، لیکن ہم ثابت قدم رہے۔ ٹکیت  نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے ، ہم وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ ہم  کسی بھی  قیمت پر وہاں سے نہیں  جائیں  گے۔ ہمیں فصلوں پر ایم ایس پی کی گارنٹی چاہیے اور جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جائیں گے ،تب تک  پورے ملک میں  سمیوکت مورچہ  اندولن کرے گا۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت جو تقریباً 10 مہینے کے بعد اپنے آبائی ضلع میں پہنچے  تھے، انہوں نے بتایا  کہ جب تک بل واپسی نہیں ہوگا وہ گھر واپس نہیں جائیں گے۔ دریں اثنا، مظفرنگر کی سڑکوں پر کسانوں کا سیلاب اُمڈ پڑا تھا۔ایک طرف لاکھوں لوگ  میدان میں  موجود  تھے وہیں  میدان کے باہر بھی اتنے ہی لوگ  جمع تھے۔

مظفرنگر شہر کی سڑکوں پر مہاپنچایت میں آنے والے لوگوں کے لئے  مناسب  انتظام کیا گیا  تھا۔ کہیں پوری کچوڑی بانٹی جا رہی  تھی تو کہیں چاول اور کڑھی چاول  تقسیم ہورہے تھے  ہر جگہ کھانے کا انتظام  تھا مگر  احتجاجیوں میں کھانے میں  دلچسپی نظر نہیں آرہی تھی۔

کہیں ٹریکٹروں پر، کہیں بسوں  پر اور کہیں موٹر سائیکلوں پر بھارتیہ کسان یونین،  سمیوکت کسان مورچہ کے جھنڈے لے کر  احتجاج گاہ پہنچ رہے تھے۔ کسان مہاپنچایت کے لئے جی آئی سی میدان پر بڑا سا اسٹج بنایا گیا  تھا، جس پر بڑی تعداد میں لیڈران موجود  تھے جنہیں  صرف  ایک یا دو منٹ بولنے کی اجازت دی  گئی تھی ۔  احتجاجیوں  میں حکومت کے خلاف بہت  زیادہ  غصہ  دیکھا گیا  لوگوں کا کہنا  تھا کہ  وہ مرکزی حکومت اور یوپی کی حکومت سے تنگ آ چکے ہیں۔ مہاپنچایت میں موجود جم ٖ غفیر کو دیکھ کر احساس ہورہا تھا  کہ سماج کا ہر طبقہ یہاں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پہنچا تھا۔

Rakesh Tikait full speech:

 


Share: